ابنا: علامہ ناصر عباس جعفری نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ وہ اپنے ووٹرز کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہوئے ہیں، اگر انہیں شیعہ سمجھتے ہوئے ان کا قتل عام نہیں روک سکے تو کم از کم انہیں اپنا ووٹر ہی سمجھ لیتے، انہوں نے کہا کہ اب ملت جعفریہ بیدار ہو گئی ہے، اپنا ووٹ قاتلوں اور دہشتگردوں کو سپورٹ کرنے والی کسی بھی جماعت کو نہیں دے گی۔
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا مگر ملت تشیع کی جانب سے پیش کیے جانے والے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا، ایک ہفتے سے لگے اس علامتی دھرنا کیمپ میں کسی حکومتی وزیر کو اتنی زحمت نہیں ہوئی کہ وہ یہاں آ کر مظاہرین کی بات سنتا، عوامی نمائندہ کہلانے والے ان حکمرانوں کو شرم آنی چاہیئے۔ نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ جمعہ کو مطالبات کی منظوری کیلئے کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور پنجاب میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے جبکہ اسلام آباد میں راولپنڈی ڈویژن کی سطح پر نماز جمعہ کو معطل کر کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مرکزی نماز ادا کی جائے گی۔ اگر پھر بھی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پھر پاکستان بھر سے اسلام آباد کی طرف امن مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اب ملت جعفریہ اپنے حقوق مانگے گی نہیں بلکہ چھین کر لے گی۔ بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ بدمعاش وزیراعلٰی شیعہ قوم کے قتل عام میں ملوث ہے۔ ایسے احمق وزیراعلیٰ کو کسی طور پر وزیراعلیٰ کے منصب پر نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے صدر زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً وزیراعلی رئیسانی کو اپنے عہدے سے برطرف کریں اور نیا وزیراعلٰی مقرر کریں جو سب کو قبول ہو اور صوبے میں امن قائم کرے۔
ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں کرفیو نافذ ہے، لاشیں تک ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں، لیکن حکومت اور قانون فافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سردمہری نے ملت جعفریہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ جن افراد نے قتل عام کیا اور لاشوں کی بیحرمتی کی انہیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اگر چیف آرمی سٹاف چاہتے ہیں کہ پاک فوج کا امیج بحال ہو اور داخلی جنگ سے نکل آئیں تو انہیں اپنے ادارے اور بلخصوص خفیہ ایجنسیوں سے کالی بھیڑوں کو نکالنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک داخلی جنگ کا شکار ہو جائے اور پھر کئی بلوچستان بنیں گے، انہوں نے کہا کہ اب یہ پالیسی ختم ہو جانی چاہیئے کہ جو بھی اپنے حقوق مانگے انہیں وطن دشمن قرار دیا جاتا ہے، بلوچ محب وطن قوم ہے مگر انہیں دہشتگرد قرار دیا گیا، مہاجروں کی اس وطن کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر انہیں بھی اس دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا گیا، اب اس پالیسی کو ترک کرنا ہو گا۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اس ملک کے قیام میں سنی بریلوی اور شیعہ قوم کی بےپناہ قربانیاں ہیں مگر آج انہیں کا قتل عام جاری ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی آج انہیں کی اولادیں اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ مجلس وحدت مسلمین کا کوئی دوسرا ہدف نہیں تاہم ملت تشیع کے قتل عام پر چپ نہیں بیٹھ سکتے۔ انہوں نے تمام درمند علماء اہلسنت سے اپیل کی وہ مجلس وحدت مسلمین کیساتھ ملکر امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کو بےنقاب کرنے کیلئے ساتھ دیں۔ امریکہ نے پاکستان میں فرقہ واریت کا بیج بویا، کہیں پر لسانیت اور کہیں پر علاقایئت کا نعرہ لگوایا گیا تاکہ یہ ملک فرقہ پرستی میں گھر جائے اور قوم تقسیم در تقسیم ہو جائے، اس سارے معاملے میں خفیہ ایجنسی نے منافقانہ رول ادا کیا اور ان عناصر کو پروان چڑھایا جو اس وقت پاک فوج، پولیس اور امام بارگاہوں پر حملہ آور ہیں .......
/169